GHAR AANGAN SAILAAB گھر آنگن سیلاب

Thursday, 29 December 2011

ایک منظرنامہ





Posted by arshad neyaz at 06:12 No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

ننگا بابا









Posted by arshad neyaz at 06:08 No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

زندگی ایک جنگ ہے






Posted by arshad neyaz at 06:04 No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

جو قدم آگے بڑھے









Posted by arshad neyaz at 06:00 1 comment:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

بولتی کہانی اور سلگتا قاری







Posted by arshad neyaz at 05:57 No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

Wednesday, 28 December 2011

زلزلہ






Posted by arshad neyaz at 09:15 No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest

اور پھر






Posted by arshad neyaz at 09:13 No comments:
Email ThisBlogThis!Share to XShare to FacebookShare to Pinterest
Older Posts Home
Subscribe to: Posts (Atom)

Followers

Blog Archive

  • ▼  2011 (43)
    • ▼  December (43)
      • بسم اللہ
      • نکتہ ناشر
      • پیش لفظ
      • نور کے ظہور سے پہلے
      • پونم کی رات
      • ویٹنگ روم
      • نجات کا راستہ
      • فاتح
      • جنگی قبرستان
      • ایک سفر منزل کی جانب
      • انتظار
      • قسمت کے ہاتھ
      • گھر آنگن سیلاب
      • اب بس کرو ماں
      • ایک آئینہ تحریروں کا
      • چیونٹیاں اور برگد
      • خوف کا سایہ
      • تانی
      • عکس آنکھوں کا
      • آخری سفر
      • بدلتے زاویئے
      • برین وار
      • آئینہ
      • ماں کے بیٹے
      • ہے انتظار ابھی
      • لااحب الآفلین
      • خدائیت
      • اکیسویں صدی کا فرعون
      • حادثہ
      • ایک شب سارتر کے ساتھ
      • آخری خدا
      • سرسوتی کی پیدائش
      • جنہیں ہم پوجتے ہیں
      • کہانی کہانی کار کی
      • ساعتوں کا سفر
      • یہ جہاد نہیں انتقام ہے
      • اور پھر
      • زلزلہ
      • بولتی کہانی اور سلگتا قاری
      • جو قدم آگے بڑھے
      • زندگی ایک جنگ ہے
      • ننگا بابا
      • ایک منظرنامہ

About Me

My photo
arshad neyaz
ارشد نیاز ایک طباع افسانہ نگار ہیں جن کی تخلیقی کاوشیں86ء کے بعد منظرعام پر آنے لگیں۔ملک کے مختلف رسائل اور مقامی اخبارات کی اکثرزینت بنتی رہی ہیں۔ان کا کہانیاں نہ اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ہائکو بن جائیں اور نہ اتنی طویل کہ جی گھبرانے لگے۔انہوں نے قصہ بیانی اور واقعہ نگاری کی یکسانیت سے اپنے افسانوں کو الگ کر کےایک تفکیری اور تخیلی حسیت سے آشنا کیا ہے جو آج کے اسپتنک دور کا عین خاصہ ہے۔کردار نگاری ناولوں اور طویل افسانوں سے منسوب ہے۔ارشد نیاز کے چھوٹے افسانے مسائل سے جوجھتی ہزار پارچہ زندگی کے کسی ایک پارچے کی قصہ نگاری کی بجائےاحساس نگاری کی منزلوں میں ایمائیت اور میتھ کی تنگناؤں سے گزرتے ہوئے ایک ایسے چوراہے پر تھم جاتے ہیں جہاں قاری کو کسک کے ساتھ پُراسرار لذت کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایم۔علی(ادارہ ارباب فکروفن)
View my complete profile
Awesome Inc. theme. Powered by Blogger.